IN ENGLISH...
FIRST EPISODE...
"So Queen Aaliyah........!!! How did the house feel...!!!" Hasan jokingly cleared his throat and asked him who had entered the mansion behind him. The bags and other belongings seemed too large and heavy to Nilofar as she left her small apartment, but as she entered the spacious and decorated hall of the mansion, she found her luggage very short.
"So many goods are not found in the shops of the
cities...!!" Nilufer looked in wonder at the flickering chandelier on the
ceiling and spun around in a swinging circle.
Why is this mansion closed for so many years?
Who takes care of such a big mansion and cleans
it......¡???" Nilofar asked
Nilufar moved towards this tall glass without help and started to feel its inscription by touching it with her delicate fingers."What a masterpiece it is.....!!!" She was watching in amazement, she loved antiques and everything here in the mansion had a high and special place
" Nilofar said "Let's go, Queen Aaliya...!!! Now the bedroom is
left...!!" Hasan said jokingly, Nilofar laughed out loud "Let's
go...!!" Nilufer said that the upper rooms were smaller than the lower
ones, but the bows of the windows were the same which opened towards the lower
hall. The view from above looked clear and beautiful, though the
color had faded, and the walls were rotten, but the beauty of the building was in
place. They completed the circuit of the bows and came to a large
room with a heavy wooden door carved with two bolts which Hassan opened. As soon as the door opened, a strong gust of wind went out
touching both of them. Nilofar looked at Hasan with some surprise."The
windows are windy...!!" Hasan pointed to the large open windows in front
of which hung pale pink and white curtains. Seeing the boat-sized king bed reminded Nilofar of the men's
beds that she used to see in movies and now she was seeing with her own eyes.
"Such a big room..!!! Such a big bed......!!!! My
God...!!!" Nelufar happily screamed and started circling this vast room.
Everything started looking upside down Khushi was shining like fire on her face, the light was
bursting.
CONTINUE...
IN URDU...
قسط نمبر1 ۔۔
اس بڑے سے کالے گیٹ میں سے جب ان کی نیوی بلیو کلر کی کار گزری تو سیدھے حویلی کے بڑے سے پورچ کے سامنے آرکی بڑے کمانوں کے دروازوں سے سجی اس دو منزلہ حویلی کا رعب دار اور اونچا انداز اسے بہت حیران کرگیا کھڑکیوں کے جھروکے اپنی نقش و خوبصورتی کے ساتھ اپنی سادگی بھی بیان کررہے تھے وہ کار سے اتر کر جب باہری ہال میں آئی تو فرش اعلیٰ سنگ مرمر بچھا تھا جس پر کئی طرح کی نقش تھے فرنیچر پرانا تھا لیکن اپنی خوبصورتی و حسن کو لئے وہ بوسیدہ نہیں لگتا تھا اونچی اونچی کھڑکیوں پر ٹنگے لمبے لمبے پردے ہلکی ہلکی ہواؤں سے لہرا رہے تھے ہال کے بیچ سے دائیں بائیں دو راستہ جاکر بیچ میں سیڑھیاں اوپر جاتی تھی
سیڑھیوں کے پاس آکر اس نے پہلے دائیں بائیں کے راستوں کو دیکھا جہاں کوریڈور کی ایک طرف تو لائن سے کمانیں بنی تھی تو دوسری طرف دروازوں کی لائن تھی تو ملکہ عالیہ........
!!! کیسا لگا گھر ....
!!!" حسن نے شوخی سے گلا صاف کرکے اس سے پوچھا جو اس کے پیچھے ہی حویلی میں داخل ہوا تھا شوفر ان کے مختصر سے بیگ ہال کے ایک کونے میں رکھ کر جاچکا تھا بیگ اور دیگر سامان نیلوفر کو ان کے چھوٹے سے اپارٹمینٹ سے نکلتے ہوئے تو بہت زیادہ اور بھاری لگ رہے تھے لیکن حویلی کے وسیع و عریض سجے سجائے ہال میں داخل ہوتے ہی اسے اپنا سامان بڑا مختصر سہ لگا گھر
....
!" نیلوفر
نے
حیرت
سے
حسن
کو
دیکھا
یہ گھر نہیں جناب یہ تو حویلی ہے ......
!!! اب میں سمجھی لوگ اسے بڑی حویلی کیوں کہتے ہیں ....
!!!!" نیلوفر کی حیرت کم نہیں ہورہی تھی حسن ہنس پڑا یہ دروازوں کی لائن دیکھی ہے آپ نے ....!!!! مجھے یقین ہے۔ یہ ایسے ہی اوپر بھی ہونگے ....
!!!"نیلوفر دائیں جانب کمروں کی طرف بڑھی اور ایک ایک کمرے کا جائزہ لینے لگی اور بس حویلی ہی نہیں ہے ....
!!! یہ ساز و سامان بھی تو دیکھو .....!!!" نیلوفر نے حیرت سے ساز وسامان سے سجے کمروں کی جانب اشارہ کیا اتنا سامان تو شہروں کی دکانوں میں نہ ملے ...
!!" نیلوفر نے حیران ہوتے ہوئے چھت پر لگے جھلملاتے فانوس کو دیکھا اور جھومتی ہوئی دائرے کی شکل میں گھوم گئی تم تو جانتی ہو یہ راجپوتوں کی حویلیوں کو میرے دادا نے ان سے خریدیں تھی اور آج اتنے سالوں بعد ہم اس حویلی میں اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنے والے ہیں حسن نے سرشار لہجے میں کہا نیلوفر نے کسی خیال سے چونک کر حسن کو دیکھا لیکن آپ لوگ یہاں کیوں نہیں رہتے ہیں بلکہ آپ کی فیملی بھی بڑی ہے اور یہاں کمرے بھی اتنے ہیں .....؟؟؟
یہ حویلی اتنے سالوں سے کیوں بند پڑی ہے ....؟؟؟؟
" نیلوفر نے اپنے خیال کو زبان دی حسن نے مسکرا کر دیکھا یہاں ایک بہت ہی جان لیوا حا دثہ بھی میرے دادا جان کے ساتھ ہؤا تھا جب تک وہ زندہ تھے وہ کبھی حویلی میں نہیں آئے ...
!!!!" حسن نے سنجیدگی سے کہا اپنی موت کے بعد بھی اس جگہ پر کوئی بھی نہ رہے ایسے وصیت کر گئے تھے اب ان کے ساتھ کیا ہوا مجھ نہیں پتہ
......!!!!"
حسن
نے
نیلوفر
کے
اگلے
سوال
کو
روک
کر
کہا
پہلے کچھ پیٹ پوجا ہوجائے
.......!!!! بندہ
صبح
سے
انھیں
کاموں
میں
خوار
ہورہا
ہے
....
!!!" حسن شوخی سے زرا خم ہوکر ہنسا اوکے ....
!!! مجھے باورچی خانے پہنچا دیں ...!!" نیلوفر کمرے سے باہر نکل کر چاروں طرف دیکھتی ہوئی بولی اس طرف ..……..
!!!" حسن اسے لے کر دائیں جانب بڑھا نیلوفر آس پاس کی چیزوں کو تجسس و تعجب سے دیکھتی اس کے پیچھے چل رہی تھی اتنی بڑی حویلی کی دیکھ بھال صاف صفائی کون کرتا ہے ......¡؟؟؟
" نیلوفر نے پوچھا یہاں کے ملازم .....!!! حسن نے مختصر کہا اوہ اسی۔ لئے۔ یہاں سب صاف ستھرا اور سلیقے سے ہے .….….!!!" نیلوفر نے کہا سب کچھ ٹھیک ہے کچھ دنوں میں تم سب سیکھ جاؤں گی ڈونٹ وری ...!!" حسن نے کہا اور لکڑی کا ایک وسیع و بوسیدہ سہ دروازہ کھولا دروازہ اپنی مخصوص آواز کے ساتھ چرچرا کر کھلا تو نیلوفر آس خوفناک آواز سے خوفزدہ ہوکر حسن کے بازو سے لپٹ گئی۔ ارے ڈرو نہیں یہ دروازہ صرف بچتا ہے اور کچھ نہیں کرتا ......
!!! میں کل شام لال سے دروازہ آئیلنگ کرواتا ہوں ' حسن نے محبت سے کہا کچن بھی پرانے طرز پر بنا تھا جسے تھوڑی سی کوشش کرکے نیا انداز دینے کی کوشش کی گئی تھی بڑی بڑی دیواروں میں بنی الماریوں میں بڑے بڑے برتن سجے تھے معمول سے زیادہ بڑے اس کچن کو دوسری طرف سے ایک چھوٹا سہ دروازہ بھی تھا نیلوفر نے دروازہ کھولا تو دوسری طرف دو راستے تھے ایک راستہ سیڑھیوں تک جاتا تھا دوسرا راستہ جو تنگ تھا وہ حویلی کی پچھلی طرف جاتا تھا اور ایک گیٹ پر ختم ہوتا تھا اس چھوٹے سے گیٹ پر زنگ آلودتالہ پڑا تھا جو جانے کتنی صدیوں سے یونہی پڑا تھا اس گیٹ کی دوسری طرف پچھلی سڑک تھی جہاں سے آمد و رفت کی جاسکتی تھی یا ہوتی رہی ہوگی تو یہ سیڑھیاں بھی اوپر جاتی ہیں ....
!!" نیلوفر سیڑھیوں کے پاس آتی ہوئی بولی " یہ سیڑھیاں حویلی کے الگ حصے میں جاتی ہیں جہاں جانے کی کسی کو اجازت نہیں ہے ....
!!!!" حسن نے مختصر کہا اور نیلوفر کو لے کر کچن میں واپس آیا لیکن کیوں ....!؟؟" نیلوفر نے کچھ حیرت سے کہا ہر کیوں کا جواب نہیں ہوتا.....!!!" حسن نے کہا
اب وہ ہال سے اوپر کو جاتی سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہے تھے اوپری ہال بھی کافی وسیع اور آرائش سے بھرپور تھا ہر چیز اپنے سلیقے سے رکھی صاف ستھری تھی ہال کے دائیں جانب ایک قد آور شیشیہ دیوار میں بنا تھا وہ فرش سے لے کر اوپر تک ایک جیسا اور پوری طرح سے جڑا ہوا تھا اس کے فریم کی لکڑی پر باریک نقش و نگاری کرکے مختلف رنگ بھی بھرے گئے تھے جس کی وجہ سے وہ حسن کا شاہکار لگ رہا تھا نیلوفر بے اختیار ہی اس قد آور شیشیہ کی طرف بڑھی اور اپنی نازک انگلیوں سے چھو کر اس کی نگاری کو محسوس کرنے لگی کیا شاہکار ہے یہ .....!!!" وہ حیرت سے دیکھ رہی تھی اسے نوادرات بہت پسند تھا اور یہاں حویلی میں ہر چیز ہی اعلی اور علیحدہ مقام رکھتی تھی تمہیں پسند آیا نہ ....
!! مجھے یقین تھا کہ تمہیں یہ حویلی پسند آئے گی
.....!!!! یہاں بسی ہر انوکھی چیز سے عشق ہو جائے گا ..
!!" حسن نے دلاربسے کہا واقعی یہ میری سوچ سے پرے ہے
...!! مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے جیسے میں پچھلے صدی میں آگئی ہوں بلکل اسی انداز و اطوار میں ....!!' نیلوفر نے کہا
چلیں ملکہ عالیہ .....!!! ابھی تو بیڈ روم باقی ہے ...
!!" حسن نے شوخی سے کہا نیلوفر کھلکھلا کر ہنس پڑی چلیں جی چلیں ...!!" نیلوفر نے کہا نیچے کی بہ نسبت اوپرکمرے کم تھے لیکن کھڑکیوں کی کمانیں ویسی ہی تھی جو نچلے ہال کی طرف کھلتی تھی اوپر سے یہ منظر واضح ہو کر اور خوبصورت لگ رہا تھا گو کہ کلر پھیکا ہوگیا تھا دیواریں بوسیدہ تھیں لیکن عمارت کی خوبصورتی اپنی جگہ تھی
وہ کمانوں کا دائرہ مکمل کرکے اس بڑے کمرے تک آئے تھے جس کا لکڑی کا بھاری دروازہ تھا اس پر نقش و نگار کیا گیا تھا اور وہ دو پٹ تھے جن کو حسن نے کھولا تھا دروازہ کھلتے ہی زور دار ہوا کا جھونکا ان دونوں کو چھوتا ہوا باہر کی طرف نکل گیا نیلوفر نے کچھ حیرت سے حسن کو دیکھا کھڑکیوں کی ہوا ہے ....
!!" حسن نے سامنے کھلے بڑے بڑے دریچوں کی طرف اشارہ کیا جس پر ٹنگے ہلکے گلابی و سفید رنگ کے پردے لٹک رہے تھے کشتی سائز کنگ بیڈ کو دیکھ کر نیلوفر کو رجواڑوں کے بیڈ یاد آئے جو اکثر و پیشتر وہ فلموں میں دیکھا کرتی تھی اور اب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی
اتنا بڑا کمرہ ۔۔۔۔۔۔!!! اتنا بڑا بیڈ ......!!!! میرے خدا ....!!!"نیلوفر خوشی سے چیخی اور جھومتی ہوئی اس وسیع کمرے کے چکر کاٹنے لگی ہر چیز کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی
خوشی اس کے چہرے پر جگنو کی طرح چمک رہی تھی روشنی تھی کہ پھوٹی پڑ رہی تھی۔۔

Social Plugin