SCARY NIGHT | HUNTED NIGHT | HORROR STORY | Part 1

IN ENGLISH... 

FIRST EPISODE..

It was twelve o'clock in the night and Ahamar was still trying to sleep when he suddenly felt that someone was on the roof and walking. At first, he thought it was his hallucination and maybe he was feeling that way because of the tiredness of the day, but the voice was coming for real.

Regularly someone was walking on the roof. But who? Because there was no one else in the house except Ahamar, and who would be walking on the roof of his house at that hour of the night? somewhere There is no thief anywhere???

This was the first thought that came to Ahamar's mind, but that thought was quickly dismissed when Ahamar heard another voice while walking. This voice belongs to Payal. Am I really hearing Pyle's voice or am I hearing ringing? Red asked himself. But now Payal's voice was getting clearer.

It all started when Ahmar had to go for a job in a sea town near Faisalabad. The first challenge faced by Ahamar was where to live in this ancient city. So Ahmar contacted a property dealer and started looking for a rental house. The property dealer showed Ahmar different houses, but somewhere the rent was high, and sometimes Ahmar didn't like the house.

Ahamar was also a virgin, so she didn't need such a big house. He could have had a room, but there was no such option. Eventually, the property dealer showed Ahamar a house that was a decent size, and, best of all, the rent was almost negligible. When Ahamar heard the rent, he immediately agreed.

The layout of the house was something like a single-story house with two rooms, a verandah, a courtyard, and a kitchen on the right side of the courtyard and a bathroom on the left. And from the courtyard, stairs were going up to the roof. And at the end of the courtyard was the main door that opened into the street outside the house. There were two rooms, but one room was locked and Ahamar was told that it contained some essential belongings of the landlord and therefore he could not open or use this room. Ahmar needed a room to live in anyway and here he got such a big house.

https://andotherstori.blogspot.com/


He filled the supporter. By giving advance etc. he shifted in the house. How much was his luggage? A cot, a box containing clothes and other necessities. All came in one room.

Red days were going very well, the town was small but full of sincere people. Except the people of his neighborhood who used to look at him very strangely. Like he's a space creature. Ahmar had been living in this house for a week and

So far he had been living very peacefully until tonight when he first felt someone on the roof. And was listening to Payal's voice.

In fact, it was very hot today, so Ahamar had spread his bed outside in the yard. And today he had a feeling that something was wrong. He was just consoling his heart that it was his illusion when slowly the sound of Payal and footsteps started coming closer to him. Now it sounded like someone was coming down the stairs. Redback stairs

was on the side.

Ahamar's heart was beating fast. Suddenly he realized that whoever it was was standing on the stairs watching him. There was sweat on his forehead. And Rongte stood up. But after a while the same steps started going back up and Payal's voice was also getting fainter now. And then all that noise stopped. As if whoever came has now gone back.

The heaviness that Ahamar had felt in the air was now gone. And then suddenly he caught his eye.

But this was just the beginning, there was still much to be done, much to be seen.

CONTINUE....

https://andotherstori.blogspot.com/


IN URDU...

قسط نمبر1..

رات کے بارہ بج چکے تھے اور احمر ابھی سونے کی کوشش میں ہی تھا کہ اچانک اس کو لگا کہ چھت پر کوئی موجود ہے اور چل رہا ہے۔ اس نے پہلے تو سوچا کہ یہ اس کا وہم ہے اور شائد دن بھر کی تھکان کی وجہ سے وہ ایسا محسوس کر رہا ہے، لیکن آواز حقیقت میں آرہی تھی۔

باقاعدہ طور پر کوئی چھت پر چہل قدمی کر رہا تھا۔ مگر کون؟ کیونکہ مکان میں تو احمر کے علاوہ کوئی اور موجود ہی نہیں تھا، اور رات کے اس پہر کون ہوگا جو اس کے گھر کی چھت پر چل رہا ہوگا؟ کہیں۔۔۔ کہیں کوئی چور تو نہیں؟؟؟

پہلا خیال یہی آیا احمر کے دماغ میں لیکن وہ خیال بہت جلد ہوا ہوگیا جب چلنے پھرنے کے ساتھ ایک اور آواز پر احمر نے غور کیا۔ یہ آواز تو پائل کی ہے۔ کیا میں واقعی میں پائل کی آواز سن رہا ہوں یا میرے کان بج رہے ہیں؟ احمر نے خود سے سوال کیا۔ لیکن اب پائل کی آواز اور بھی واضح ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔!                               

اس سب کا آغاز کچھ اس طرح ہوا کہ احمر کو فیصل آباد کے قریب آباد ایک شہر سمندری میں نوکری کے سلسلے میں جانا پڑا۔ سب سے پہلا چیلنج احمر کو یہ درپیش تھا کہ اس پرائے شہر میں رہائش کہاں اختیار کی جائے؟ اس لئے احمر نے ایک پراپرٹی ڈیلر سے رابطہ کیا اور کرایے کے مکان کی تلاش کا آغاز کیا۔ پراپرٹی ڈیلر نے احمر کو مختلف گھر دکھائے لیکن کہیں کرایہ زیادہ ہوتا تو کہیں احمر کو گھر پسند نہیں آتا۔

احمر تھا بھی کنوارہ تو اس کو کوئی اتنا بڑا گھر تو چاہئے نہیں تھا۔ اس کو تو ایک کمرہ بھی چلتا لیکن اس طرح کا کوئی آپشن موجود نہیں تھا۔ بالآخر پراپرٹی ڈیلر نے احمر کو ایک گھر دکھایا جو سائز میں بھی مناسب تھا اور سب سے اچھی بات کے اس کا کرایہ تقریباً نہ ہونے کہ برابر تھا۔ احمر نے جب کرایہ سنا تو فوراً راضی ہوگیا۔

گھر کا نقشہ کچھ اس طرح تھا کہ سنگل سٹوری گھر تھا جس میں دو کمرے تھے، ایک برآمدہ تھا، ایک صحن اور صحن کے دائیں جانب کچن تھا اور بائیں جانب باتھ روم۔ اور صحن میں سے ہی سیڑھیاں اوپر چھت پر جا رہی تھیں۔ اور صحن کے آخر میں مرکزی دروازہ تھا جو گھر کے باہر گلی میں کھلتا تھا۔ کمرے تو دو تھے لیکن ایک کمرہ کو تالا لگا ہوا تھا اور احمر کو بتایا گیا تھا کہ اس میں مالک مکان کا کچھ ضروری سامان پڑا ہوا ہے اور اسلئے یہ کمرہ وہ نہ کھول سکتا ہے اور نہ ہی استعمال کر سکتا ہے۔ احمر کو رہنے کے لئے ویسے بھی ایک کمرہ چاہیئے تھا اور یہاں تو اسکو اتنا بڑا گھر مل گیا تھا۔ اس نے حامی بھر لی۔ ایڈوانس وغیرہ دے کر وہ گھر میں شفٹ ہوگیا۔ اسکا سامان ہی کتنا تھا؟ ایک چارپائی، ایک صندوق جس میں کپڑے تھے اور اسکے علاوہ کچھ ضرورت کی اور چیزیں۔ سب ایک ہی کمرے میں آگیا۔

احمر کے دن بہت اچھے سے گزر رہے تھے، شہر چھوٹا تھا لیکن مخلص لوگوں سے بھرا ہوا۔ سوائے اسکے محلے والوں کہ جو اسکو نہایت عجیب نظروں سے دیکھا کرتے تھے۔ جیسے وہ کوئی خلائی مخلوق ہو۔ احمر کو ایک ہفتہ ہوگیا تھا اس گھر میں رہتے ہوئے اور ابھی تک وہ بہت سکون سے رہ رہا تھا یہاں تک کہ آج کی رات آئی جب اسے پہلی بار محسوس ہوا تھا کہ چھت پر کوئی موجود ہے۔ اور پائل کی آواز سن رہا تھا۔

اصل میں آج بہت گرمی تھی اسلئے احمر نے اپنی چارپائی باہر صحن میں بچھا لی تھی۔ اور آج ہی اسے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ وہ ابھی اپنے دل کو تسلی دے رہا تھا کہ یہ اس کا وہم ہے کہ آہستہ آہستہ پائل کی اور قدموں کی آواز اس کے قریب آنا شروع ہوگئی۔ اب ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی سیڑھیاں اتر کر نیچے آ رہا ہے۔ احمر کی پیٹھ سیڑھیوں کی

جانب تھی۔

احمر کے دل کی دھڑکن تیز ہوچکی تھی۔ اچانک اسے محسوس ہوا کہ وہ جو کوئی بھی ہے سیڑھیوں پر ہی کھڑا ہو کر اس کو دیکھ رہا ہے۔ اس کے ماتھے پر پسینہ سا آگیا تھا۔ اور رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ لیکن تھوڑی دیر بعد وہی قدم واپس اوپر کی جانب جانے لگے اور وہ پائل کی آواز بھی اب مدہم ہوتی جارہی تھی۔ اور پھر وہ سب آواز تھم گئی۔ جیسے جو کوئی بھی آیا تھا اب واپس چلا گیا ہو۔

احمر کو فضا میں جو ایک بوجھل پن سا محسوس ہونے لگا تھا وہ بھی اب ختم ہوگیا تھا۔ اور پھر ناجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔

لیکن یہ تو ابھی شروعات تھی ابھی تو آگے بہت کچھ ہونا باقی تھا، بہت کچھ دیکھنا باقی تھا..

جاری ہے,, 

Second Part Link