SCARY NIGHT | HUNTED NIGHT | HORROR STORY | Part 2

IN ENGLISH..

Second Episode..

The rest of the night passed smoothly, when the morning came, Amar got ready, and the night event Amar started in full. Come home, do some office work, and come back in the evening. After finishing all the work, Ahamar is to go out even today.

After lying down, Ahmar looked at his watch and it was twelve o'clock in the night. Seeing the time, Ahmar remembered the whole scene of the previous night. And an unknown fear surrounded him. "Somewhere. Did that sound of footsteps come even today?" Ahamar asked himself. Then, shaking his head as if to console himself, he said, "No, this is all my illusion, I am living alone, not because my mind is playing this game with me."
After comforting his heart, he tried to sleep by taking a red crotch. Even today, coincidentally, his back was towards the stairs. He had just taken a turn when suddenly the sound of footsteps and at the same time, the mysterious voice of Payal started coming from the roof.
The red one came to the mouth like a kidney. He was praying with every passing moment that all this should be an illusion, but the sound of footsteps and footsteps was getting closer and closer like last night. And then it felt like someone was coming down the stairs.
Ahamar's condition was changing due to fear. Slowly whatever it was was coming down. And now there was an apocalypse in Ahamar's being, for whoever it was was now moving toward his bed.
With every passing moment, Payal's chirping sound was getting closer and closer to Ahamar. The atmosphere around Ahamar was very heavy. He was suffocating.
And then that voice came to his bed and stopped. Red regularly felt that there was someone right behind him, someone staring intently at Red. In fear, Ahamar did not think it proper to turn back.
His condition was such that even his breath seemed to stop, but at the same time it seemed that his heart would come out of his chest. Red's entire body was shivering
Ahmar had a habit of sleeping with a pocket-sized Quran on his head. Ahmar suddenly thought of the Holy Quran and he picked up the Holy Quran from his head and put it on his chest.

It was too late to put the Holy Qur'an on his chest, and the intensity of fear that was on him decreased a bit and his mind started to work. Ahmar started reciting Ayatul Kursi. And with that, he felt that whatever had been standing behind him began to retreat.
And indeed he again began to hear the footsteps and the pile slowly moving away from him. Ahmar continued reciting Quranic verses and the voice went up the stairs to the ceiling and then slowly faded away
As soon as the sound stopped, the atmosphere became slightly lighter. It seemed that life had returned all around Ahar. Red placed the Holy Quran on his head. And got down from his cot with courage and went up the stairs to the roof. He went to see if there was any villager who came from somewhere on the top to scare him. But when he went to the top, he was very disappointed because there was only a field on three sides of his house. And there was a street on one side of it
After seeing the red, he remembered that his mind was not working as much because he already knew that there was no other house built with this house, and he did not pay any attention to it. After being comforted by the good, Ahamar returned, prayed, and tried to sleep. And his efforts paid off because very soon he fell asleep. What had happened to Red tonight was quite a disturbing affair, but now it was nothing, Red had no idea what was going to happen next.

https://andotherstori.blogspot.com/

Continue...

IN URDU

قسط نمبر2..

باقی رات خیریت سے گزر گئی۔ صبح ہوئی تو احمر تیار ہو کر نوکری پر چلا گیا۔ سارے دن میں رات والاواقعہ احمر مکمل طور پر بھول گیا تھا۔ شام کو گھر واپس آیا، کھانا کھا کر اپنے دفتر کے کچھ کاموں میں مصروف ہو گیا۔ سب کاموں سے فارغ ہو کر احمر آج بھی سونے کے لئے باہر صحن میں آ کر لیٹ گیا۔
احمر نے لیٹنے کے بعد اپنی گھڑی پر نظر ڈالی تو رات کے بارہ بج رہے تھے۔ وقت دیکھ کر احمر کو پچھلی رات کا سارا منظر یاد آگیا۔ اور ایک انجانے خوف نے اسکو گھیر لیا۔ " کہیں ۔۔۔۔ کہیں آج بھی وہ قدموں کی آواز آئی ت و؟؟؟ " احمر نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ پھر خود ہی اپنا سر جھٹکتے ہوئے گویا خود کو تسلی دیتے ہوئے کہا " نہیں نہیں یہ سب میرا وہم ہے، اکیلا رہ رہا ہوں نہ اسلئے دماغ یہ کھیل کھیل رہا ہے میرے ساتھ۔ "
اپنے دل کو تسلی دے کر احمر کروٹ لے کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔ آج بھی اتفاق سے اسکی پیٹھ سیڑھیوں کی جانب تھی۔ ابھی اسنے کروٹ لی ہی تھی کہ اچانک پھر وہی قدموں کی آواز اور ساتھ ہی ساتھ پائل کی وہ پرسرار آواز چھت سے آنا شروع ہوگئی۔
احمر کا تو جیسے کلیجہ ہی منہ کو آگیا۔ وہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ یہی دعا کر رہا تھا کہ اللّٰہ کرے یہ سب اس کا وہم ہو مگر وہ پائل اور قدموں کی آواز پچھلی رات کی طرح قریب آتی جا رہی تھی۔ اور پھر ایسا محسوس ہوا کہ کوئی سیڑھیاں اتر رہا ہے۔
احمر کی تو حالت غیر ہو رہی تھی خوف کے مارے۔ آہستہ آہستہ جو بھی تھا وہ نیچے کی جانب آ رہا تھا۔ اور اب تو قیامت برپا تھی احمر کے وجود میں کیونکہ یہ جو بھی کوئی تھا اب اس کی چارپائی کی جانب بڑھنے لگا تھا۔
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ پائل کی چھن چھن چھن کی آواز احمر کے قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی تھی۔ احمر کے آس پاس کی فضا بہت بھاری ہوچکی تھی۔ اس کا دم گھٹنے لگا تھا۔
اور پھر وہ آواز اسکی چارپائی تک آ کر رک گئی۔ احمر کو باقاعدہ طور پر یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے بالکل پیچھے کوئی موجود ہے، کوئی ہے جو بغور احمر کو گھور رہا ہے۔ خوف کے مارے احمر نے پیچھے مڑنا مناسب نہیں سمجھا۔
اس کی حالت ایسی ہوچکی تھی کہ سانس بھی جیسے رک رک کر آرہا ہو، لیکن ساتھ ہی ساتھ ایسا لگتا تھا کہ دل نکل کر سینے سے باہر آ جائے گا۔ احمر کے پورے جسم کے رونگھٹے کھڑے ہو چکے تھے۔
احمر کی ایک عادت تھی کہ وہ اپنے سرہانے پاکٹ سائز کا قرآن پاک رکھ کر سویا کرتا تھا۔ احمر کو اچانک قرآن مجید کا خیال آیا اور اس نے سرہانے سے قرآن پاک اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔
قرآن مجید سینے سے لگانے کی دیر تھی کہ وہ خوف کی شدت جو اس پر تاری تھی اس میں کچھ کمی آگئی اور اسکے دماغ نے کام کرنا شروع کیا۔ احمر نے آیت الکرسی کا ورد کرنا شروع کیا۔ اور اسکے ساتھ ہی اسے ایسا محسوس ہوا کہ جو بھی چیز اسکے پیچھے کھڑی ہوئی تھی اسنے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔
اور واقعی میں اسکو دوبارہ قدموں اور پائل کی آواز آنا شروع ہو گئی تھی جو آہستہ آہستہ اس سے دور جا رہی تھی۔ احمر نے قرآنی آیات کا ورد جاری رکھا اور وہ آواز سیڑھیاں چڑھتے ہوئے چھت تک گئی اور پھر آہستہ آہستہ ختم ہوگئی۔
آواز بند ہوتے ساتھ ہی فضا بھی مکمل طور پر ہلکی ہوچکی تھی۔ لگتا تھا کہ اب احمر کے چاروں اطراف زندگی واپس لوٹ آئی ہے۔ احمر نے قرآن پاک سرہانے رکھا۔ اور ہمت کر کے اپنی چارپائی سے اترا اور ڈرتے ڈرتے سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر گیا۔ وہ یہ دیکھنے گیا تھا کہ کہیں کوئی محلے والا تو نہیں جو چھت پر کسی طرف سے آکر اسکو ڈراتا ہے۔ لیکن چھت پر جا کر اسے اس بات کی تو شدید مایوسی ہوئی کیونکہ اسکے گھر کی تین اطراف صرف میدان تھا۔ اور اسکے ایک جانب گلی تھی۔
احمر کو دیکھنے کے بعد یاد آیا کہ دماغ اتنا کام نہیں کر رہا تھا کیونکہ وہ تو پہلے ہی جانتا تھا کہ اس کا یہ مکان کے ساتھ کوئی اور مکان نہیں بنا ہوا تھا، اس بات کو لے کر بھی اس نے کوئی دھیان نہیں دیا تھا۔ خیر اچھے سے تسلی کر کے احمر واپس آ کر دعائیں پڑھ کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔ اور اسکی کوشش رنگ لے آئی کیونکہ بہت جلد وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا تھا۔ آج رات احمر کے ساتھ جو ہوا تھا وہ کافی پریشان
کن معاملہ تھا لیکن ابھی تو یہ کچھ بھی نہیں تھا، آگے جو ہونے کو تھا اسکا اندازہ احمر کو بالکل بھی نہیں تھا۔

جاری ہے...

...Third part link